كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، واللفظ لابي بكر، قالا: حدثنا محمد بن بشر ، عن زكرياء ، عن مصعب بن شيبة ، عن صفية بنت شيبة ، قالت: قالت عائشة : " خرج النبي صلى الله عليه وسلم غداة، وعليه مرط مرحل من شعر اسود، فجاء الحسن بن علي، فادخله، ثم جاء الحسين فدخل معه، ثم جاءت فاطمة فادخلها، ثم جاء علي فادخله، ثم قال: إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر کجاووں کی صورتیں یا ہانڈیوں کی صورتیں بنی ہوئی تھیں کالے بالوں کی، اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چادر کے اندر کر لیا، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے ان کو بھی اندر کر لیا، پھر سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا آئیں ان کو بھی اندر کر لیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ان کو بھی اندر کر لیا بعد اس کے فرمایا: «إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا» (٣٣-الأحزاب: ۳۳) یعنی اللہ تعالیٰ جل جلالہ چاہتا ہے کہ دور کرے تم سے ناپاکی کو اور پاک کرے تم کو اے گھر والو!۔

صحيح مسلم # 6261
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp