كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا إسماعيل بن الخليل ، وسويد بن سعيد كلاهما، عن ابن مسهر ، قال إسماعيل: اخبرنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عبد الله بن الزبير ، قال: " كنت انا وعمر بن ابي سلمة يوم الخندق مع النسوة في اطم حسان، فكان يطاطئ لي مرة، فانظر واطاطئ له مرة، فينظر فكنت اعرف ابي، إذا مر على فرسه في السلاح إلى بني قريظة "، قال: واخبرني عبد الله بن عروة ، عن عبد الله بن الزبير ، قال: فذكرت ذلك لابي، فقال: ورايتني يا بني، قلت: نعم، قال: اما والله لقد جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ ابويه، فقال: فداك ابي وامي.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں اور سیدنا عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ خندق کے دن عورتو ں کے ساتھ تھے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ میں تو کبھی وہ جھک جاتا میرے لیے میں دیکھتا اور کبھی میں جھک جاتا اس کے لیے وہ دیکھتا۔ میں اپنے باپ کو پہچان لیتا جب وہ گھوڑے پر نکلتے ہتھیار باندھے ہوئے بنی قریظہ کی طرف، پھر میں نے یہ ذکر کیا اپنے باپ سے، انہوں نے کہا: بیٹا! تو نے مجھے دیکھا تھا، میں نے کہا: ہاں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے جمع کر دیا اپنے ماں باپ کو اور فرمایا: فدا ہوں تجھ پر ماں باپ میرے۔

صحيح مسلم # 6245
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp