كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا الحسن بن موسى ، حدثنا زهير ، حدثنا سماك بن حرب ، حدثني مصعب بن سعد ، عن ابيه ، انه نزلت فيه آيات من القرآن، قال: " حلفت ام سعد ان لا تكلمه ابدا حتى يكفر بدينه، ولا تاكل ولا تشرب، قالت: زعمت ان الله وصاك بوالديك، وانا امك وانا آمرك بهذا، قال: مكثت ثلاثا حتى غشي عليها من الجهد، فقام ابن لها، يقال له عمارة، فسقاها فجعلت تدعو على سعد، فانزل الله عز وجل في القرآن هذه الآية: ووصينا الإنسان بوالديه حسنا سورة العنكبوت آية 8 وإن جاهداك على ان تشرك بي سورة لقمان آية 15 وفيها وصاحبهما في الدنيا معروفا سورة لقمان آية 15، قال: واصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم غنيمة عظيمة، فإذا فيها سيف، فاخذته فاتيت به الرسول صلى الله عليه وسلم، فقلت: نفلني هذا السيف، فانا من قد علمت حاله، فقال: رده من حيث اخذته، فانطلقت حتى إذا اردت ان القيه في القبض لامتني نفسي، فرجعت إليه، فقلت: اعطنيه، قال فشد لي صوته: رده من حيث اخذته، قال فانزل الله عز وجل: يسالونك عن الانفال سورة الانفال آية 1، قال: ومرضت فارسلت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فاتاني، فقلت: دعني اقسم مالي حيث شئت، قال: فابى، قلت: فالنصف، قال: فابى، قلت: فالثلث، قال: فسكت، فكان بعد الثلث جائزا، قال: واتيت على نفر من الانصار، والمهاجرين، فقالوا: تعال نطعمك ونسقك خمرا، وذلك قبل ان تحرم الخمر، قال: فاتيتهم في حش، والحش البستان، فإذا راس جزور مشوي عندهم وزق من خمر، قال: فاكلت وشربت معهم، قال: فذكرت الانصار، والمهاجرين عندهم، فقلت: المهاجرون خير من الانصار، قال: فاخذ رجل احد لحيي الراس، فضربني به فجرح بانفي، فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته، فانزل الله عز وجل في يعني نفسه شان الخمر: إنما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطان سورة المائدة آية 90.

‏‏‏‏ مصعب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے سنا اپنے باپ سے کہ ان کے باب میں قرآن کی کئی آیتیں اتریں۔ ان کی ماں نے قسم کھائی تھی کہ ان سے کبھی بات نہ کرے گی جب تک وہ اپنا دین (یعنی اسلام کا دین) نہ چھوڑیں گے اور نہ کھائے گی نہ پیئے گی۔ وہ کہنے لگی: اللہ تعالیٰ نے تجھےحکم دیا ہے ماں باپ کی اطاعت کرنے کا اور میں تیری ماں ہوں تجھ کو حکم کرتی ہوں اس بات کا، پھر تین دن تک یوں ہی رہی کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ اس کو غش آ گیا آخر ایک بیٹا اس کا جس نام عمارہ تھا کھڑا ہوا اور اس کو پانی پلایا۔ وہ بددعا کرنے لگی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لیے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَاوَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا» ۱-لقمان: ۱۴-۳۲) اور ہم نے حکم دیا آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کا لیکن وہ اگر زور ڈالیں تجھ پر کہ شریک کرے تو میرے ساتھ اس چیز کو جس کا تجھےعلم نہیں تو مت مان ان کی بات (یعنی شرک مت کر) اور رہ ان کے ساتھ دنیا میں دستور کے موافق۔ اور ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سا غنیمت کا مال ہاتھ آیا اس میں ایک تلوار بھی تھی وہ میں نے لے لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا۔ میں نے عرض کیا: یہ تلوار مجھ کو انعام دے دیجئیے اور میرا حال آپ جانتے ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو وہیں رکھ دے جہاں سے تو نے اٹھائی ہے۔ میں گیا اور میں نے قصد کیا، پھر اس کو گدام میں ڈال دوں لیکن میرے دل نے مجھے ملامت کی اور میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹا۔ میں نے عرض کیا کہ یہ تلوارمجھے دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے فرمایا: رکھ دے اسی جگہ جہاں سے تو نے اٹھائی ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ» (۸-الأنفال: ۱) تجھ سے پوچھتے ہیں لوٹ کی چیزوں کو۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بیمار ہوا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے کہا: مجھ کو اجازت دیجئیے میں اپنے مال کو بانٹ دوں جس کو چاہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مانا، میں نے کہا: اچھا آدھا مال بانٹ دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ مانا، میں کہا: اچھا تہائی مال بانٹ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے، پھر یہی حکم ہوا کہ تہائی مال تک بانٹنا درست ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک بار میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس گیا انہوں نے کہا: آؤ ہم تم کو کھانا کھلائیں گے اور شراب پلائیں گے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ میں ان کے پاس گیا ایک باغ میں۔ وہاں ایک اونٹ کے سر کا گوشت بھونا گیا تھا اور شراب کی ایک مشک رکھی تھی میں نے گوشت کھایا اور شراب پی ان کے ساتھ، وہاں مہاجرین اور انصار کا ذکر آیا، میں نے کہا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں ایک شخص نے سری کا ایک ٹکڑا لیا اور مجھے مارا، میرے ناک میں زخم لگا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» (۵-المائدہ: ٩٠) شراب، جوا، تھان اور پانسے یہ سب نجس اور شیطان کے کام ہیں۔

صحيح مسلم # 6238
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp