كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني ابن حازم ، عن ابي حازم ، عن سهل . ح وحدثنا قتيبة بن سعيد ، واللفظ هذا، حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن ، عن ابي حازم ، اخبرني سهل بن سعد ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال يوم خيبر: " لاعطين هذه الراية رجلا يفتح الله على يديه يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، قال: فبات الناس يدوكون ليلتهم ايهم يعطاها، قال: فلما اصبح الناس غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، كلهم يرجون ان يعطاها، فقال: اين علي بن ابي طالب؟ فقالوا: هو يا رسول الله يشتكي عينيه، قال: فارسلوا إليه، فاتي به فبصق رسول الله صلى الله عليه وسلم في عينيه، ودعا له، فبرا حتى كان لم يكن به وجع، فاعطاه الراية، فقال علي: يا رسول الله، اقاتلهم حتى يكونوا مثلنا، فقال: انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، واخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه، فوالله لان يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من ان يكون لك حمر النعم ".

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیبر کے دن: البتہ دوں گا میں اس نشان کو اس شخص کو جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا وہ چاہتا ہے اللہ اور اس کے رسول کو اور اللہ اور رسول اس کو چاہتے ہیں۔ پھر رات بھر لوگ ذکر کرتے رہے کہ دیکھیں یہ نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس کو دیتے ہیں جب صبح ہوئی تو سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہر ایک کو یہ امید تھی کہ یہ نشان مجھ کو ملے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں، پھر ان کو بلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں تھوکا اور ان کے لیے دعا کی۔ وہ بالکل اچھے ہو گئے گویا ان کو کچھ شکوہ نہ تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ ہماری طرح (مسلمان) ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آہستہ چلا جا یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترے، پھر ان کو بلا اسلام کی طرف اور ان سے کہہ جو اللہ کا حق ان پر واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تیری وجہ سے ایک شخص کو ہدایت کرے تو وہ بہتر ہے تیرے لیے سرخ اونٹوں سے۔

صحيح مسلم # 6223
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp