كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن القاري ، عن سهيل ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال يوم خيبر: " لاعطين هذه الراية رجلا يحب الله ورسوله، يفتح الله على يديه، قال عمر بن الخطاب: ما احببت الإمارة إلا يومئذ، قال: فتساورت لها رجاء ان ادعى لها، قال: فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن ابي طالب، فاعطاه إياها، وقال: امش ولا تلتفت حتى يفتح الله عليك، قال: فسار علي شيئا، ثم وقف ولم يلتفت، فصرخ يا رسول الله: على ماذا اقاتل الناس؟ قال: قاتلهم حتى يشهدوا ان لا إله إلا الله، وان محمدا رسول الله، فإذا فعلوا ذلك فقد منعوا منك دماءهم، واموالهم، إلا بحقها، وحسابهم على الله ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیبر کے دن: البتہ میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو دوست رکھتا ہے اللہ اور اس کے رسول کو، فتح دے گا اللہ اس کے ہاتھوں پر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے امارت کی آرزو کبھی نہیں کی مگر اسی دن، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اس امید سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلائیں مجھ کو اس کام کے لیے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ جھنڈا ان کو دیا اور فرمایا: چلا جا اور ادھر ادھر مت دیکھ، اللہ تعالیٰ تجھ کو فتح دے گا۔ پھر انہوں نے چپکے سے کچھ عرض کیا بعد اس کے ٹھہرے اور کسی طرف نہیں دیکھا، پھر چلا کر بولے: یا رسول اللہ! کس بات پر میں لوگوں سے لڑوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑ ان سے یہاں تک کہ وہ گواہی دیں اس بات کی کہ کوئی برحق معبود نہیں سوائے اللہ کے اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ یہ گواہی دیں تو انہوں نے بچا لیا تجھ سے اپنی جان اور مال کو مگر کسی حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔

صحيح مسلم # 6222
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp