كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا محمد بن مسكين اليمامي ، حدثنا يحيي بن حسان ، حدثنا سليمان وهو ابن بلال ، عن شريك بن ابي نمر ، عن سعيد بن المسيب ، اخبرني ابو موسى الاشعري ، انه توضا في بيته ثم خرج، فقال: " لالزمن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولاكونن معه يومي هذا، قال: فجاء المسجد، فسال عن النبي صلى الله عليه وسلم، فقالوا: خرج وجه هاهنا، قال: فخرجت على اثره اسال عنه حتى دخل بئر اريس، قال: فجلست عند الباب، وبابها من جريد حتى قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجته وتوضا، فقمت إليه، فإذا هو قد جلس على بئر اريس، وتوسط قفها، وكشف عن ساقيه ودلاهما في البئر، قال: فسلمت عليه، ثم انصرفت، فجلست عند الباب، فقلت لاكونن بواب رسول الله صلى الله عليه وسلم اليوم، فجاء ابو بكر، فدفع الباب، فقلت: من هذا؟ فقال: ابو بكر، فقلت: على رسلك، قال: ثم ذهبت، فقلت: يا رسول الله، هذا ابو بكر يستاذن، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال: فاقبلت حتى قلت لابي بكر: ادخل ورسول الله صلى الله عليه وسلم يبشرك بالجنة، قال: فدخل ابو بكر فجلس عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم معه في القف، ودلى رجليه في البئر كما صنع النبي صلى الله عليه وسلم، وكشف عن ساقيه، ثم رجعت، فجلست وقد تركت اخي يتوضا ويلحقني، فقلت: إن يرد الله بفلان يريد اخاه خيرا يات به، فإذا إنسان يحرك الباب، فقلت: من هذا؟، فقال: عمر بن الخطاب، فقلت: على رسلك، ثم جئت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه، وقلت: هذا عمر يستاذن، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، فجئت عمر، فقلت: اذن ويبشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة، قال: فدخل فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في القف عن يساره، ودلى رجليه في البئر، ثم رجعت، فجلست، فقلت: إن يرد الله بفلان خيرا يعني اخاه يات به، فجاء إنسان فحرك الباب، فقلت: من هذا؟ فقال: عثمان بن عفان، فقلت: على رسلك، قال وجئت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته، فقال: ائذن له وبشره بالجنة مع بلوى تصيبه، قال: فجئت، فقلت: ادخل ويبشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة مع بلوى تصيبك، قال: فدخل فوجد القف قد ملئ فجلس وجاههم من الشق الآخر، قال شريك: فقال سعيد بن المسيب: فاولتها قبورهم ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے , انہوں نے وضو کیا اپنے گھر میں، پھر نکلے اور کہنے لگے میں ملازمت کروں گا آج کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ساتھ رہوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے , وہ مسجد میں آئے اور پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس طرف گئے ہیں، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان پر پوچھتے ہوئے اسی طرف چلے یہاں تک کہ بئراریس پر پہنچے (بئر اریس ایک کنواں ہے مدینہ سے باہر)۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دروازے پر بیٹھ گیا اور اس کا دروازہ لکڑی کا تھا، یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہو ئے اور وضو کیا، تب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر بیٹھے تھے اس کی منڈیر پر پنڈلیا ں کھول کر کنویں میں لٹکائے ہوئے، میں نے سلام کیا، پھر میں لوٹا اور دروازے پر بیٹھا، میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا «بواب» (وہ شخص جو دروازے پر رہتا ہے) آج بنوں گا، اتنے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور دروازے پر دستک دی، میں نے کہا: کو ن ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر میں نے کہا: ٹھہرو، پھر میں گیا، اور میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو اجازت دے اور جنت کی خوشخبری دے۔ میں آیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اندر آؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف بیٹھے کنویں کی مینڈھ پر اور اپنے پاؤں لٹکا دئیے کنویں میں، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور پنڈلیاں کھول دیں، میں لوٹا اور دروازے پر بیٹھا اور میں اپنے بھائی کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا، وہ مجھ سے ملنے والا تھا، میں نے (اپنے دل میں) کہا: اگر اللہ کو اس کی بہتری منظور ہے تو اس کو لائے گا، اچانک ہی ایک آدمی نے دروازہ ہلایا، میں نے کہا: کون؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب۔ میں نے کہا: ٹھہرو اور میں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور سلام کیا اور عرض کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اجازت مانگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو اجازت دے اور جنت کی خوشخبری دے۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اندرآؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو جنت کی بشارت دی۔ وہ اندر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کنویں کی منڈیر پر بیٹھے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا دیے، میں لوٹا اور بیٹھا اور کہا: اگر اللہ کو فلانے کی یعنی میرے بھائی کی بھلائی منظور ہے تو وہ بھی آئے گا، ایک آدمی آیا اور دروازہ ہلایا میں نے کہا: کون ہے؟ اس نے کہا: عثمان بن عفان۔ میں نے کہا: ٹھہرو اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو اجازت دے اور جنت کی خوشخبری دے مگر اس کے ساتھ ایک آفت بھی ہے۔ وہ آئے، انہوں نے دیکھا منڈیر پر جگہ نہیں رہی تو وہ ان کے سامنے دوسری طرف بیٹھے۔ شریک نے کہا: سعید بن مسیب نے کہا: میں نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی (ویسا ہی ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حجرہ میں جگہ نہ ملی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بقیع میں دفن ہوئے۔

صحيح مسلم # 6214
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp