كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب

حدثنا حرملة بن يحيي ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، ان سعيد بن المسيب اخبره، انه سمع ابا هريرة ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " بينا انا نائم، رايتني على قليب عليها دلو، فنزعت منها ما شاء الله، ثم اخذها ابن ابي قحافة، فنزع بها ذنوبا او ذنوبين وفي نزعه، والله يغفر له ضعف ثم استحالت غربا، فاخذها ابن الخطاب، فلم ار عبقريا من الناس ينزع نزع عمر بن الخطاب، حتى ضرب الناس بعطن ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس حالت میں میں سوتا تھا میں نے اپنے تئیں دیکھا ایک کنویں پر کہ اس پر ڈول پڑا ہے سو میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا جتنا اللہ نے چاہا، پھر اس کو ابو قحافہ کے بیٹے یعنی صدیق اکبر نے لیا، اور ایک یا دو ڈول نکالے ان کے کھینچنے میں ناتوانی تھی، اللہ ان کو بخشے، پھر وہ ڈول بڑا ڈول ہو گیا اور اس کو عمر بن الخطاب نے لیا تو میں نے لوگوں میں ایسا سردار اور شہ زور نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کھینچتا ہو، انہوں نے اس کثرت سے پانی نکالا کہ لوگ اپنے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے آرام کی جگہ لے گئے۔

صحيح مسلم # 6192
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp