حدثنا ابي بن كعب ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إنه بينما موسى عليه السلام في قومه يذكرهم بايام الله، وايام الله نعماؤه وبلاؤه، إذ قال: ما اعلم في الارض رجلا خيرا واعلم مني، قال: فاوحى الله إليه إني اعلم بالخير منه، او عند من هو إن في الارض رجلا هو اعلم منك، قال: يا رب فدلني عليه، قال: فقيل له: تزود حوتا مالحا فإنه حيث تفقد الحوت، قال: فانطلق هو وفتاه حتى انتهيا إلى الصخرة، فعمي عليه فانطلق وترك فتاه، فاضطرب الحوت في الماء فجعل لا يلتئم عليه، صار مثل الكوة، قال: فقال فتاه: الا الحق نبي الله فاخبره، قال: فنسي، فلما تجاوزا، قال لفتاه: آتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هذا نصبا، قال: ولم يصبهم نصب حتى تجاوزا، قال: فتذكر، قال: ارايت إذ اوينا إلى الصخرة، فإني نسيت الحوت وما انسانيه إلا الشيطان ان اذكره، واتخذ سبيله في البحر عجبا، قال: ذلك ما كنا نبغي فارتدا على آثارهما قصصا، فاراه مكان الحوت، قال: هاهنا وصف لي، قال: فذهب يلتمس فإذا هو بالخضر، مسجى ثوبا مستلقيا على القفا، او قال: على حلاوة القفا، قال: السلام عليكم فكشف الثوب عن وجهه، قال: وعليكم السلام، من انت؟ قال: انا موسى، قال: ومن موسى؟ قال: موسى بني إسرائيل، قال مجيء: ما جاء بك؟ قال: جئت تعلمن مما علمت رشدا {66} قال إنك لن تستطيع معي صبرا {67} وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا {68} سورة الكهف آية 66-68 شيء امرت به ان افعله إذا رايته لم تصبر قال ستجدني إن شاء الله صابرا ولا اعصي لك امرا {69} قال فإن اتبعتني فلا تسالني عن شيء حتى احدث لك منه ذكرا {70} فانطلقا حتى إذا ركبا في السفينة خرقها سورة الكهف آية 69-71 قال: انتحى عليها، قال له موسى عليه السلام: اخرقتها لتغرق اهلها لقد جئت شيئا إمرا {71} قال الم اقل إنك لن تستطيع معي صبرا {72} قال لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من امري عسرا {73} فانطلقا حتى إذا لقيا سورة الكهف آية 71-74 غلمانا يلعبون، قال: فانطلق إلى احدهم بادي الراي فقتله، فذعر عندها موسى عليه السلام ذعرة منكرة قال اقتلت نفسا زكية بغير نفس لقد جئت شيئا نكرا سورة الكهف آية 74 فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عند هذا المكان رحمة الله علينا وعلى موسى لولا انه عجل لراى العجب، ولكنه اخذته من صاحبه ذمامة قال إن سالتك عن شيء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني عذرا سورة الكهف آية 76 ولو صبر لراى العجب، قال: وكان إذا ذكر احدا من الانبياء بدا بنفسه رحمة الله علينا وعلى اخي كذا رحمة الله علينا فانطلقا حتى إذا اتيا اهل قرية سورة الكهف آية 77 لئاما فطافا في المجالس فاستطعما اهلها فابوا ان يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد ان ينقض فاقامه قال لو شئت لاتخذت عليه اجرا {77} قال هذا فراق بيني وبينك سورة الكهف آية 77-78 واخذ بثوبه، قال سانبئك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا {78} اما السفينة فكانت لمساكين يعملون في البحر سورة الكهف آية 78-79 إلى آخر الآية، فإذا جاء الذي يسخرها وجدها منخرقة، فتجاوزها فاصلحوها بخشبة واما الغلام سورة الكهف آية 80 فطبع يوم طبع كافرا، وكان ابواه قد عطفا عليه، فلو انه ادرك ارهقهما طغيانا وكفرا فاردنا ان يبدلهما ربهما خيرا منه زكاة واقرب رحما {81} واما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة وكان تحته سورة الكهف آية 81-82 إلى آخر الآية ".
حدیث بیان کی ہم سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہوں نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں نصحیت کر ر ہے تھے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور بلا سے کہ انہوں نے اچانک یہ کہا: میں نہیں جانتا ساری دنیا میں کسی شخص کو جو مجھ سے بہتر ہو اور مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو، اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی بھیجی، میں جانتا ہوں اس شخص کو جو تم سے بہتر ہے اور تم سے زیادہ علم رکھنے والا ایک شخص ہے زمین میں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اےمالک میرے! مجھ کو ملا دے اس شخص سے، حکم ہوا، اچھا ایک مچھلی میں نمک لگا کر اپنا توشہ کرو، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ شخص ملے گا۔ یہ سن کر موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی چلے یہاں تک صخرہ پر پہنچے، وہاں کوئی نہ ملا۔ موسیٰ علیہ السلام آگےچلے گئے اور اپنے ساتھی کو چھوڑ گئے، اچانک مچھلی تڑپی پانی میں اور پانی نے ملنا اور جڑنا چھوڑ دیا، بلکہ ایک طاق کی طرح اس مچھلی پر بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی نے کہا: میں اللہ کے نبی سے ملوں اور ان سے یہ حال کہوں، پھر وہ (چلے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے مل گئے لیکن) یہ حال کہنا بھول گئے۔ جب آگے بڑھے تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: ہمارا ناشتہ لاؤ اس سے سفر سے تو ہم تھک گئے، راوی نے کہا: ان کو تھکن نہیں ہوئی جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں بڑھے، پھر ان کے ساتھی نے یاد کیا اور کہا: تم کو معلوم نہیں جب ہم صخرہ پر پہنچے تو وہاں میں مچھلی کو بھول گیا اور شیطان کے سوا کسی نے مجھ کو نہیں بھلایا، اس مچھلی نے، تعجب ہے اپنی راہ لی سمندر میں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اسی کو تو ہم چاہتے تھے،، پھر اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہو ئے لوٹے۔ ان کے ساتھی نے جہاں پر مچھلی نکل بھاگی تھی، وہ جگہ بتا دی وہاں موسیٰ علیہ السلام ڈھونڈ نے لگے، ناگاہ انہوں نے خضر علیہ السلام کو دیکھا ایک کپڑا اوڑھے ہوئے چٹ لیٹے ہوئے (یا سیدھے چٹ لیٹے ہوئے یعنی کسی کروٹ کی طرف جھکے نہ تھے) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم انہوں نے اپنے منہ پر سے کپڑا اٹھایا اور کہا: وعلیکم السلام تم کون ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے کہا: کون موسیٰ؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: بنی اسرائیل کے موسیٰ۔ انہوں نے کہا: تم کیوں آئے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اس لیے آیا کہ تم اپنے علم میں سے کچھ مجھ کو سکھلاؤ، انہوں نے کہا: تم میرے ساتھ صبرنہ کر سکو گے اور کیوں کر صبر کرو گے اس بات پر جس کا تمہیں علم نہیں، پھر اگر تم صبر نہ کرو تو مجھ کو بتلاؤ میں کیا کروں؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: جو اللہ چاہے تو مجھ کو تم صابر پاؤ گے اور میں تمہارے خلاف کوئی کام نہیں کرنے کا، خضر علیہ السلام نے کہا: اچھا اگر تم میرے ساتھ ہوتے ہو تو کوئی بات مجھ سے مت پوچھنا، جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں، پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہو ئے خضر علیہ السلام نے اس کا تختہ توڑ ڈالا یا توڑ ڈالنا چاہا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم نے کشتی کو توڑ ڈالا، اس لیے کہ کشتی والے ڈوب جائیں، یہ تم نے بھاری کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے کہا: میں نہیں کہتا تھا تم میرے ساتھ صبرنہ کر سکو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: بھول گیا مت مواخذہ کرو اور مت دشواری کرو مجھ پر، پھر دونوں چلے، ایک جگہ بچےکھیل رہے تھے، خضر علیہ السلام نے بےسوچے اور بےکھٹکے ایک بچے کے پاس جا کر اس کو قتل کیا، موسیٰ علیہ السلام یہ دیکھ کر بہت گھبرا گئے اور فرمانے لگے تم نے ایک بےگناہ کا ناحق خون کیا، یہ بہت برا کام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ رحم کرے موسیٰ علیہ السلام پر اگر وہ جلدی نہ کرتے تو بہت عجیب باتیں دیکھتے، لیکن ان کو خضر علیہ السلام سے شرم آ گئی۔“ اور انہوں نے کہا: اب اگر میں کوئی بات تم سے پوچھوں تو میرا ساتھ چھوڑ دینا، بےشک تمہارا عذر واجبی ہے، اور جو موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے تو اور عجیب عجیب باتیں دیکھتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پیغمبر کا ذکر کرتے تو یوں فرماتے: ”اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ہم پر اور ہمارے فلاں بھائی پر اللہ کی رحمت ہو ہم پر۔“ خیر، پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں میں پہنچے، وہاں کے لوگ بڑے بخیل تھے۔ یہ دونوں سب مجلسوں میں گھومے اور کھانا مانگا، کسی نے ضیافت نہ کی، پھر ان کو وہاں ایک دیوارملی جو ٹوٹنے کے قریب تھی، خضر علیہ السلا م نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے تو اس کی مزدوری لیتے۔ خضر علیہ السلام نے کہا: بس اب جدائی ہے مجھ میں اور تم میں اور موسیٰ علیہ السلام کا کپڑا پکڑا اور کہا: میں تم سے ان باتوں کا بھید کہے دیتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ کشتی تو وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے، اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو کشتیوں کو جبراً پکڑ لیتا تھا، میں نے چاہا اس کشتی کو عیب دار کر دوں جب بیگار پکڑنے والا آیا تو اس کو عیب دار دیکھ کر چھوڑ دیا، وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اس کو درست کر لیا۔ اور لڑکا کافر بنایا گیا تھا، اس کے ماں باپ اس کو بہت چاہتے تھے، اگر وہ بڑا ہوتا تو اپنے ماں باپ کو بھی شرارت اور کفر میں پھنسا لیتا۔ اس لئے میں نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوسرا لڑکا بدل دے، جو اس سے بہتر ہو اور اس سے زیادہ مہربان ہو، اور دیوار تو وہ دو یتیموں کی تھی شہر میں، اخیرتک۔