كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

حدثنا عمرو بن محمد الناقد ، وإسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، وعبيد الله بن سعيد ، ومحمد بن ابي عمر المكي كلهم، عن ابن عيينة واللفظ لابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا عمرو بن دينار ، عن سعيد بن جبير ، قال: قلت لابن عباس : إن نوفا البكالي، يزعم ان موسى عليه السلام، صاحب بني إسرائيل، ليس هو موسى، صاحب الخضر عليه السلام، فقال: كذب عدو الله، سمعت ابي بن كعب ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " قام موسى عليه السلام، خطيبا في بني إسرائيل، فسئل اي الناس اعلم؟ فقال: انا اعلم، قال: فعتب الله عليه، إذ لم يرد العلم إليه، فاوحى الله إليه، ان عبدا من عبادي بمجمع البحرين، هو اعلم منك، قال موسى: اي رب، كيف لي به؟ فقيل له: احمل حوتا في مكتل، فحيث تفقد الحوت فهو ثم فانطلق، وانطلق معه فتاه، وهو يوشع بن نون، فحمل موسى عليه السلام، حوتا في مكتل، وانطلق هو وفتاه يمشيان، حتى اتيا الصخرة، فرقد موسى عليه السلام، وفتاه، فاضطرب الحوت في المكتل، حتى خرج من المكتل، فسقط في البحر، قال: وامسك الله عنه جرية الماء، حتى كان مثل الطاق، فكان للحوت سربا، وكان لموسى وفتاه عجبا، فانطلقا بقية يومهما، وليلتهما، ونسي صاحب موسى ان يخبره، فلما اصبح موسى عليه السلام، قال لفتاه: آتنا غداءنا، لقد لقينا من سفرنا هذا نصبا، قال: ولم ينصب، حتى جاوز المكان الذي امر به، قال: ارايت إذ اوينا إلى الصخرة، فإني نسيت الحوت، وما انسانيه، إلا الشيطان ان اذكره، واتخذ سبيله في البحر عجبا، قال موسى: ذلك ما كنا نبغ، فارتدا على آثارهما قصصا، قال: يقصان آثارهما، حتى اتيا الصخرة، فراى رجلا مسجى عليه بثوب، فسلم عليه موسى، فقال له الخضر: انى بارضك السلام، قال: انا موسى، قال موسى: بني إسرائيل، قال: نعم، قال: إنك على علم من علم الله، علمكه الله، لا اعلمه، وانا على علم من علم الله، علمنيه، لا تعلمه، قال له موسى عليه السلام: هل اتبعك على ان تعلمني مما علمت رشدا؟ قال: إنك لن تستطيع معي صبرا، وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا، قال ستجدني إن شاء الله صابرا، ولا اعصي لك امرا، قال له الخضر: فإن اتبعتني، فلا تسالني عن شيء، حتى احدث لك منه ذكرا، قال: نعم، فانطلق الخضر، وموسى يمشيان على ساحل البحر، فمرت بهما سفينة، فكلماهم ان يحملوهما، فعرفوا الخضر، فحملوهما بغير نول، فعمد الخضر إلى لوح من الواح السفينة، فنزعه، فقال له موسى: قوم حملونا بغير نول، عمدت إلى سفينتهم، فخرقتها لتغرق اهلها، لقد جئت شيئا إمرا، قال: الم اقل إنك لن تستطيع معي صبرا، قال: لا تؤاخذني بما نسيت، ولا ترهقني من امري عسرا، ثم خرجا من السفينة، فبينما هما يمشيان على الساحل، إذا غلام يلعب مع الغلمان، فاخذ الخضر براسه، فاقتلعه بيده، فقتله، فقال موسى: اقتلت نفسا زاكية بغير نفس، لقد جئت شيئا نكرا، قال: الم اقل لك إنك لن تستطيع معي صبرا، قال: وهذه اشد من الاولى، قال: إن سالتك عن شيء بعدها، فلا تصاحبني، قد بلغت من لدني عذرا، فانطلقا حتى إذا اتيا اهل قرية، استطعما اهلها، فابوا ان يضيفوهما، فوجدا فيها جدارا يريد ان ينقض، فاقامه يقول مائل، قال الخضر بيده هكذا فاقامه، قال له موسى: قوم اتيناهم فلم يضيفونا، ولم يطعمونا لو شئت لتخذت عليه اجرا، قال: هذا فراق بيني وبينك سانبئك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يرحم الله موسى لوددت انه كان صبر حتى يقص علينا من اخبارهما، قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كانت الاولى من موسى نسيانا، قال: وجاء عصفور حتى وقع على حرف السفينة ثم نقر في البحر، فقال له الخضر: ما نقص علمي وعلمك من علم الله، إلا مثل ما نقص هذا العصفور من البحر "، قال سعيد بن جبير: وكان يقرا وكان امامهم ملك ياخذ كل سفينة صالحة غصبا، وكان يقرا، واما الغلام فكان كافرا.

‏‏‏‏ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے، موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے وہ اور ہیں اور جو موسیٰ خضر کے ساتھ گئے تھے وہ اور ہیں۔ انہوں نے کہا:: جھوٹ بولتا ہے اللہ کا دشمن، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے، ان سے پوچھا گیا کہ سب لوگوں میں زیادہ علم کس کو ہے؟ انہوں نے کہا:: مجھ کو ہے (یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوئی) اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا اس وجہ سے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اللہ خوب جانتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی بھیجی کہ میرا ایک بندہ ہے دو دریاؤں کے ملاپ پر، وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے پر وردگار! میں اس سے کیونکر ملوں؟ حکم ہوا کہ ایک مچھلی رکھ ایک زنبیل میں، جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ بندہ ملے گا۔ یہ سن کر موسیٰ علیہ السلام چلے اپنے ساتھی یوشع بن نون کو لے کر اور انہوں نے ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی۔ دونوں چلتےچلتے صخرہ (ایک مقام ہے) کے پاس پہنچے، وہاں موسیٰ علیہ السلام سو گئے اور ان کے ساتھی بھی سو گئے مچھلی تڑپی، یہاں تک کہ زنبیل سے نکل دریا میں جا پڑی اور اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہنا اس پر سے روک دیا یہاں تک کہ پانی کھڑا ہو کر طاق کی طرح ہو گیا اور مچھلی کے لیے خشک راستہ بن گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کو تعجب ہو ا۔، پھر دونوں چلے، دن بھر اور رات بھر اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی مچھلی کا حال ان سے کہنا بھول گئے، جب صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا: ناشتہ ہمارا لاؤ، اس سفر سے تو ہم تھک گئے اور تھکے اسی وقت سے جب اس جگہ سے آگے بڑھےجہاں جانے کا حکم ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: آپ کو معلوم نہیں، جب ہم صخرہ پر اترتے تھے تو مچھلی بھول گئے، اور شیطان نے ہم کو بھلایا۔ اس مچھلی پر تعجب ہے دریا میں راہ لی، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم تو اسی مقام کو ڈھونڈتے تھے، پھر دونوں اپنے پاؤں کے نشانوں پر لوٹے یہاں تک کہ صخرہ پر پہنچے۔ وہاں ایک شخص کو دیکھا کپڑا اوڑھے ہوئے، موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سلام کیا انہوں نے کہا: تمہارے ملک میں سلام کہاں ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے کہا: بنی اسرائیل کے موسیٰ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ خضر علیہ السلام نے کہا: تم کو اللہ نے وہ علم دیا ہے جو میں نہیں جانتا اور مجھے وہ علم دیا ہے جو تم نہیں جانتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اس لیے کہ مجھ کو سکھلاؤ وہ علم جو تم کو دیا گیا۔ خضر علیہ السلام نے کہا: تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے اور تم سے کیونکر صبر ہو سکے گا اس بات پر جس کو تم نہیں جانتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اللہ چاہے تو تم مجھ کو صابر پاؤ گے اور میں کسی بات میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے کہا: اچھا اگر میرے ساتھ ہوتے ہو تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود اس کا ذکر نہ کروں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: بہت اچھا۔ خضر علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام دونوں سمندر کے کنارے چلے جاتے تھے کہ ایک کشتی سامنے سے نکلی دونوں نے کشتی والوں سے کہا: ہم کو سوار کر لو۔ انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور دونوں کو بن کرایہ «نول» سوار کر لیا۔ خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ ڈالا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے تو ہم کو بغیر کرایہ کے چڑھایا اور تم نے ان کی کشتی کو تو ڑ ڈالا تاکہ کشتی والوں کو ڈبو دو یہ تم نے بڑا بھاری کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے کہا: میں نہیں کہتا تھا تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: بھول چوک پر مت پکڑو اور مجھ پر تنگی مت کرو، پھر دونوں کشتی سے باہر نکلے اور سمندر کے کنارے چلے جاتے تھے اتنے میں ایک لڑکا ملا جو لڑکو ں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اکھیڑ لیا اور مار ڈالا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم نے ایک بےگناہ کو ناحق مار ڈالا یہ تو بہت برا کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے کہا: میں نہ کہتا تھا تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے اور یہ کام پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اب میں تم سے کسی بات پر اعتراض کروں تو میرا ساتھ چھوڑ دینا بےشک تمہارا عذر بجا ہے، پھر دونوں چلے یہاں تک ایک گاؤں میں پہنچے، گاؤں والوں سے کھانا مانگا، انہوں نے انکار کیا، پھر ایک دیوار ملی، جو گرنے کے قریب تھی، جھک گئی تھی، خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ان گاؤں والوں سے ہم نے کھانا مانگا، انہوں نے انکار کیا اور کھانا نہ کھلایا (ایسے لوگوں کا کام مفت کرنے کی کیا ضرورت تھی) اگر تم چاہتے تو اس کی مزدوری لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے کہا: بس اب جدائی ہے میرے اور تمہارے درمیان میں، اب میں تم سے ان باتوں کا بھید کہے دیتا ہوں جن پر تم کو صبر نہ ہو سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم کر ے اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر مجھے آرزو رہی کہ وہ صبر کرتے اور اور باتیں دیکھتے اور ہم کو سناتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی بات موسیٰ علیہ السلام نے بھولے سے کی، پھر ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھی اور اس نے سمندر میں چونچ ڈالی، خضر علیہ السلام نے کہا: میں نے اور تم نے اللہ کے علم میں سے اتناہی علم سیکھا جتنا اس چڑیا نے سمندر میں سے پانی کم کیا ہے۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پڑھتے تھے اس آیت کو کہ ان کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح و سالم کشتی کو جبر سے چھین لیتا اور وہ لڑکا کافر تھا۔

صحيح مسلم # 6163
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp