كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

وحدثني عمرو الناقد ، حدثنا ابو احمد الزبيري ، حدثنا سفيان ، عن عمرو بن يحيي ، عن ابيه ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: جاء يهودي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، قد لطم وجهه، وساق الحديث بمعنى حديث الزهري، غير انه قال: فلا ادري، اكان ممن صعق، فافاق قبلي، او اكتفى بصعقة الطور.

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔ حدیث زہری کے موافق حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے ہیں اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا ان کو کوہ طور کی بے ہوشی کفایت کر گئی۔

صحيح مسلم # 6155
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp