كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

حدثني محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن همام بن منبه ، قال: هذا ما حدثنا ابو هريرة ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر احاديث منها، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كانت بنو إسرائيل يغتسلون عراة، ينظر بعضهم إلى سواة بعض، وكان موسى عليه السلام، يغتسل وحده، فقالوا: والله ما يمنع موسى ان يغتسل معنا، إلا انه آدر، قال: فذهب مرة يغتسل، فوضع ثوبه على حجر، ففر الحجر بثوبه، قال: فجمح موسى باثره، يقول: ثوبي حجر، ثوبي حجر، حتى نظرت بنو إسرائيل إلى سواة موسى، فقالوا: والله ما بموسى من باس، فقام الحجر بعد، حتى نظر إليه، قال: فاخذ ثوبه، فطفق بالحجر ضربا، قال ابو هريرة: والله إنه بالحجر ندب ستة، او سبعة، ضرب موسى عليه السلام بالحجر ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے , رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل ننگے نہایا کرتے تھے , اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھا کرتے لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہائی میں نہاتے (ننگے ہو کر)۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم موسیٰ علیہ السلام ہمارے ساتھ اس واسطے نہیں نہاتے ان کو فتق (خصیہ پھول جانا) کی بیماری ہے، ایک بار موسیٰ علیہ السلام غسل کر رہے تھے، انہوں نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے تھے، وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا، اور موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے کہتے جاتے تھے: او پتھر میرے کپڑے دے، او پتھر میرے کپڑے دے، یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے ان کی شرمگاہ کو دیکھ لیا، اور کہا: اللہ کی قسم ان کو تو کوئی بیماری نہیں ہے، اس وقت وہ پتھر تھم گیا، جب بنی اسرائیل کے لوگ خوب دیکھ چکے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس پتھر پر نشان ہیں چھ یا سات موسیٰ علیہ السلام کی مار کے۔

صحيح مسلم # 6146
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp