كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

وحدثني ابو الطاهر ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني جرير بن حازم ، عن ايوب السختياني ، عن محمد بن سيرين ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لم يكذب إبراهيم النبي عليه السلام قط، إلا ثلاث كذبات، ثنتين في ذات الله، قوله: إني سقيم سورة الصافات آية 89، وقوله: بل فعله كبيرهم هذا سورة الانبياء آية 63، وواحدة في شان سارة، فإنه قدم ارض جبار، ومعه سارة، وكانت احسن الناس، فقال لها: إن هذا الجبار إن يعلم انك امراتي، يغلبني عليك، فإن سالك، فاخبريه انك اختي، فإنك اختي في الإسلام، فإني لا اعلم في الارض مسلما غيري وغيرك، فلما دخل ارضه، رآها بعض اهل الجبار اتاه، فقال له: لقد قدم ارضك امراة، لا ينبغي لها ان تكون إلا لك، فارسل إليها، فاتي بها، فقام إبراهيم عليه السلام إلى الصلاة، فلما دخلت عليه، لم يتمالك ان بسط يده إليها، فقبضت يده قبضة شديدة، فقال لها: ادعي الله ان يطلق يدي، ولا اضرك، ففعلت، فعاد، فقبضت اشد من القبضة الاولى، فقال لها مثل ذلك، ففعلت، فعاد، فقبضت اشد من القبضتين الاوليين، فقال: ادعي الله ان يطلق يدي، فلك الله ان لا اضرك، ففعلت، واطلقت يده، ودعا الذي جاء بها، فقال له: إنك إنما اتيتني بشيطان، ولم تاتني بإنسان، فاخرجها من ارضي، واعطها هاجر، قال: فاقبلت تمشي، فلما رآها إبراهيم عليه السلام، انصرف، فقال لها: مهيم؟ قالت: خيرا، كف الله يد الفاجر، واخدم خادما "، قال ابو هريرة: فتلك امكم يا بني ماء السماء.

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین بار، ان میں دو جھوٹ اللہ کے لیے تھے۔ ان کا یہ قول کہ میں بیمار ہوں، اور دوسرا یہ قول کہ ان بتوں کو بڑے بت نے توڑا ہو گا، تیسرا جھوٹ سارہ علیہا السلام کے باب میں تھا، اس کا قصہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے۔ ان کے ساتھ ان کی بی بی سارہ علیہا السلام بھی تھیں، وہ بڑی خوبصورت تھیں، انہوں نے اپنی بی بی سے کہا کہ یہ ظالم بادشاہ کو اگر معلوم ہو گا کہ تو میری بی بی ہے تو مجھ سے چھین لے گا، اس لیے اگر وہ پوچھے تو یہ کہنا کہ میں اس شخص کی بہن ہوں، اور تو اسلام کے رشتہ سے میری بہن ہے۔ (یہ بھی کچھ جھوٹ نہ تھا) اس لیے کہ ساری دنیا میں آج میرے اور تیرے سوا کوئی مسلمان معلوم نہیں ہوتا، جب ابراہیم علیہ السلام اس ظالم کے ملک میں پہنچے تو اس کے کارندے اس کے پاس گئے اور بیان کیا کہ تیرے ملک میں ایسی عورت آئی ہے جو سوائے تیرے کسی کے لائق نہیں ہے، اس نے سارہ علیہا السلام کو بلا بھیجا وہ گئیں اور ابراہیم علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہوئے (اللہ سے دعا کرنے لگے اس کے شر سے بچنے کے لیے)۔ جب سارہ علیہا السلام اس ظالم کے پاس پہنچیں اس نے بےاختیار اپنا ہاتھ ان کی طرف دراز کیا، لیکن فوراً اس کا ہاتھ سوکھ گیا، وہ بولا: تو اللہ سے دعا کر میرا ہاتھ کھل جائے میں تجھے نہیں ستاؤں گا، انہوں نے دعا کی اس مردود نے پھر ہاتھ دراز کیا، پھر پہلے سے بڑھ کر سوکھ گیا، اس نے دعا کے لیے کہا، انہوں نے دعا کی پھر اس مردود نے دست درازی کی، پھر دونوں بار سے بڑھ کر سوکھ گیا، تب وہ بولا: تو اللہ سے دعا کر میرا ہاتھ کھل جائے، اللہ کی قسم میں اب نہ تجھے ستاؤں گا۔ سارہ علیہا السلام نے پھر دعا کی اس کا ہاتھ کھل گیا، تب اس نے اس شخص کو بلایا جو سارہ علیہا السلام کو لے کر آیا تھا، اور اس سے بولا: تو میرے پاس شیطاننی کو لے کر آیا تھا، یہ آدمی نہیں ہے، اس کو میرے ملک سے باہر نکال دے اور ہاجرہ علیہا السلام ایک لونڈی کو حوالے کر۔ سارہ ہاجرہ علیہا السلام کو لے کر لوٹ آئیں۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے ان کو دیکھا تو لوٹے، اور ان سے پوچھا: کیا گزرا؟ انہوں نے کہا: سب خیریت رہی، اللہ تعالیٰ نے اس بدکار کا ہاتھ مجھ سے روک دیا، اور ایک لونڈی بھی دلوائی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر یہی لونڈی یعنی ہاجرہ علیہا السلام تمہاری ماں ہے اے بارش کے بچو۔

صحيح مسلم # 6145
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp