حدثنا قتيبة بن سعيد الثقفي ، وابو كامل الجحدري ، وتقاربا في اللفظ، وهذا حديث قتيبة، قالا: حدثنا ابو عوانة ، عن سماك ، عن موسى بن طلحة ، عن ابيه ، قال: " مررت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، بقوم على رءوس النخل، فقال: ما يصنع هؤلاء؟ فقالوا يلقحونه، يجعلون الذكر في الانثى، فيلقح، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما اظن يغني ذلك شيئا، قال: فاخبروا بذلك، فتركوه، فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك، فقال: إن كان ينفعهم ذلك، فليصنعوه، فإني إنما ظننت ظنا، فلا تؤاخذوني بالظن، ولكن إذا حدثتكم عن الله شيئا، فخذوا به، فإني لن اكذب على الله عز وجل ".
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرا کچھ لوگوں پر جو کجھور کے درختوں کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا، پیوند لگاتے ہیں، یعنی نر کو مادہ میں رکھتے ہیں وہ گابہہ ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں اس میں کچھ فائدہ نہیں ہے۔“ یہ خبر ان لوگوں کو ہوئی انہوں نے پیوند کرنا چھوڑ دیا۔ بعد اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس میں ان کو فائدہ ہے تو وہ کریں، میں نے تو ایک خیال کیا تھا تو مت مؤاخذہ کرو میرے خیال پر لیکن جب میں اللہ کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو اس پر عمل کرو، اس لیے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا نہیں۔“