كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

حدثنا يوسف بن حماد المعني ، حدثنا عبد الاعلى ، عن سعيد ، عن قتادة ، عن انس بن مالك : ان الناس سالوا نبي الله صلى الله عليه وسلم، حتى احفوه بالمسالة، فخرج ذات يوم، فصعد المنبر، فقال: سلوني، لا تسالوني عن شيء، إلا بينته لكم، فلما سمع ذلك القوم ارموا، ورهبوا، ان يكون بين يدي امر قد حضر، قال انس: فجعلت التفت يمينا وشمالا، فإذا كل رجل لاف راسه في ثوبه يبكي، فانشا رجل من المسجد، كان يلاحى، فيدعى لغير ابيه، فقال: يا نبي الله، من ابي؟ قال: ابوك حذافة، ثم انشا عمر بن الخطاب رضي الله عنه، فقال: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا عائذا بالله من سوء الفتن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لم ار كاليوم قط في الخير والشر، إني صورت لي الجنة والنار، فرايتهما دون هذا الحائط ".

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کر دیا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور منبر پر چڑھ گئے پھر فرمایا: پوچھو مجھ سے، جو بات تم مجھ سے پوچھو گے میں اس کو بیان کر دوں گا۔ جب لوگوں نے یہ سنا خاموش ہو رہے اور ڈرے کہیں کوئی بات آنے والی نہ ہو (یعنی اگر پوچھیں اور اللہ کا عذاب آنے والا ہو تو ہلاک ہو جائیں) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا تو ہر شخص اپنا سر کپڑے میں لپیٹے رو رہا ہے، آخر ایک شخص نے شروع کیا مسجد میں جس سے لوگ جھگڑے تھے (اور اس کو دوسرے کا نطفہ کہتے تھے) اس کو پکارتے تھے اور کسی کا بیٹا کہہ کر اس کے باپ کے سوا، اس نے عرض کیا، اے نبی اللہ کے! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جرات کی اور عرض کیا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ» ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر اور پناہ مانگتے ہیں اللہ کی فتنوں کی برائی سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج کی طرح برائی اور بھلائی کبھی نہیں دیکھی، جنت اور دوزخ دونوں کی شکل میرے سامنے لائی گئی، میں نے ان دونوں کو اس دیوار کے پاس دیکھا۔

صحيح مسلم # 6123
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp