حدثنا محمود بن غيلان ، ومحمد بن قدامة السلمي ، ويحيى بن محمد اللؤلئي والفاظهم متقاربة، قال محمود: حدثنا النضر بن شميل ، وقال الآخران: اخبرنا النضر، اخبرنا شعبة ، حدثنا موسى بن انس ، عن انس بن مالك ، قال: بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اصحابه شيء، فخطب، فقال: " عرضت علي الجنة والنار، فلم ار كاليوم في الخير والشر، ولو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا، ولبكيتم كثيرا "، قال: فما اتى على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم اشد منه، قال: غطوا رءوسهم ولهم خنين، قال: فقام عمر، فقال: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، قال: فقام ذاك الرجل، فقال: من ابي، قال: ابوك فلان، فنزلت: يايها الذين آمنوا لا تسالوا عن اشياء إن تبد لكم تسؤكم سورة المائدة آية 101.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی کوئی بات سنی (جو بری تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا، فرمایا: ”سامنے لائی گئی میرے جنت اور دوزخ، تو میں نے آج کی سی بہتری اور آج کی سی برائی کبھی نہیں دیکھی (یعنی جنت میں بھلائی اور دوزخ میں برائی) اور اگر تم جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں البتہ کم ہنستے اور بہت رویا کرتے،“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر اس دن سے زیادہ کوئی سخت دن نہیں گزرا، انہوں نے اپنے سروں کو چھپا لیا اور رونے کی آواز ان میں سے نکلنے لگی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» راضی ہوئے ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا: میرا باپ کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ فلاں شخص تھا، اس کا نام بتا دیا۔“ تب یہ آیت اتری: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» ”اے ایمان والو! مت پوچھو ایسی باتیں اگر وہ کھلیں تو تم کو بری لگیں۔“