كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

حدثنا ابو كامل ، حدثنا حماد يعني ابن زيد . ح وحدثني سويد بن سعيد ، حدثنا علي بن مسهر كلاهما، عن عاصم الاحول . ح وحدثني واللفظ له، حامد بن عمر البكراوي ، حدثنا عبد الواحد يعني ابن زياد ، حدثنا عاصم ، عن عبد الله بن سرجس ، قال: " رايت النبي صلى الله عليه وسلم، واكلت معه خبزا، ولحما، او قال: ثريدا، قال، فقلت له: استغفر لك النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم، ولك، ثم تلا هذه الآية: واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات سورة محمد آية 19، قال: ثم درت خلفه، فنظرت إلى خاتم النبوة بين كتفيه عند ناغض، كتفه اليسرى جمعا عليه خيلان كامثال الثآليل ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روٹی اور گوشت یا ثرید کھایا، عاصم نے کہا: میں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تمہارے لیے بخشش چاہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ انہوں نے کہا: ہاں اور تیرے لیے بھی، پھر یہ آیت پڑھی «وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ» (محمد:۱۹) یعنی بخشش مانگ اپنے گناہ کی اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے گناہ کی عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا تو میں نے نبوت کی مہر دیکھی دونوں مونڈھوں کے بیچ میں، چپنی ہڈی کے پاس بائیں مونڈھے کے قریب چٹکی کی طرح اس پر تل تھے مسوں کی طرح۔

صحيح مسلم # 6088
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp