وحدثنا قتيبة بن سعيد ، ومحمد بن عباد ، قالا: حدثنا حاتم وهو ابن إسماعيل ، عن الجعد بن عبد الرحمن ، قال: سمعت السائب بن يزيد ، يقول: ذهبت بي خالتي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: " يا رسول الله، إن ابن اختي وجع، فمسح راسي، ودعا لي بالبركة، ثم توضا، فشربت من وضوئه، ثم قمت خلف ظهره، فنظرت إلى خاتمه بين كتفيه، مثل زر الحجلة ".
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میری خالہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میرا بھانجا بیمار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور برکت کی دعا کی، پھر وضو کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھےکھڑا ہوا، میں نے نبوت کی مہر دیکھی دونوں مونڈھوں کے بیچ میں، جیسے گھنڈی مسہری کی، (یا حجلہ ایک جانور ہے اس کے انڈے کی طرح)۔