حدثنا منصور بن ابي مزاحم ، ومحمد بن جعفر بن زياد ، قال منصور: حدثنا، وقال ابن جعفر: اخبرنا إبراهيم يعنيان ابن سعد ، عن ابن شهاب ، عن عبيد الله بن عبد الله ، عن ابن عباس ، قال: " كان اهل الكتاب يسدلون اشعارهم، وكان المشركون يفرقون رءوسهم، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب موافقة اهل الكتاب فيما لم يؤمر به، فسدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته، ثم فرق بعد ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ اپنے بالوں کو پیشانی پر چھوڑ دیتے تھے لٹکتے ہوئے، (یعنی مانگ نہیں نکالتے تھے) اور مشرک مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کے طریق پر چلنا درست رکھتے تھے جس مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حکم نہ ہوتا (یعنی بہ نسبت مشرکین کے اہل کتاب بہتر ہیں، تو جس باب میں کوئی حکم نہ آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت اس باب میں اختیار کرتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیشانی پر بال لٹکانے لگے، بعد اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگ نکالنے لگے۔