حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عفان بن مسلم ، حدثنا وهيب ، حدثنا ايوب ، عن ابي قلابة ، عن انس ، عن ام سليم : ان النبي صلى الله عليه وسلم، كان ياتيها فيقيل عندها، فتبسط له نطعا فيقيل عليه، وكان كثير العرق، فكانت تجمع عرقه فتجعله في الطيب والقوارير، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا ام سليم ما هذا؟ قالت: عرقك ادوف به طيبي ".
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے اور آرام فرماتے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک کھال بچھا دیتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ بہت آتا، تو ام سیلم رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اکٹھا کرتیں، اور خوشبو اور شیشیوں میں ملا دیتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! یہ کیا کرتی ہے؟“ انہوں نے کہا: آپ کا پسینہ ہے جس کو میں خوشبو میں ملاتی ہوں۔