حدثني زهير بن حرب ، حدثنا هاشم يعني ابن القاسم ، عن سليمان ، عن ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: " دخل علينا النبي صلى الله عليه وسلم، فنام عندنا، فعرق، وجاءت امي بقارورة، فجعلت تسلت العرق فيها، فاستيقظ النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا ام سليم، ما هذا الذي تصنعين؟ قالت: هذا عرقك نجعله في طيبنا، وهو من اطيب الطيب ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور آرام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا۔ میری ماں ایک شیشی لائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہے؟“ وہ بولی: آپ کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شریک کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے۔