وحدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن سرح ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، قال: " غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم، غزوة الفتح، فتح مكة، ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم، بمن معه من المسلمين، فاقتتلوا بحنين، فنصر الله دينه والمسلمين، واعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم، يومئذ صفوان بن امية مائة من النعم، ثم مائة، ثم مائة ". قال ابن شهاب : حدثني سعيد بن المسيب ، ان صفوان ، قال: والله لقد اعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما اعطاني، وإنه لابغض الناس إلي، فما برح يعطيني، حتى إنه لاحب الناس إلي.
ابن شہاب سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا مکہ کی فتح کا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب مسلمانوں سمیت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نکلے، وہ حنین میں لڑے، اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی مدد کی اور مسلمانوں کی، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیئے، پھر سو دیئے، پھر سو دیئے۔ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا مجھ کو جو دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ میری نظر میں برے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مجھ کو دیتے رہے، یہاں تک کہ سب لوگوں سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری نگاہ میں محبوب ہو گئے۔