حدثني ابو معن الرقاشي زيد بن يزيد ، اخبرنا عمر بن يونس ، حدثنا عكرمة وهو ابن عمار ، قال: قال إسحاق : قال انس : " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، من احسن الناس خلقا، فارسلني يوما لحاجة، فقلت: والله لا اذهب وفي نفسي ان اذهب، لما امرني به نبي الله صلى الله عليه وسلم، فخرجت حتى امر على صبيان وهم يلعبون في السوق، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم، قد قبض بقفاي من ورائي، قال: فنظرت إليه وهو يضحك، فقال: يا انيس، اذهبت حيث امرتك، قال، قلت: نعم، انا اذهب يا رسول الله،
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ ملنسار تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام پر جانے کو کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا لیکن میرے دل میں یہی تھا کہ جاؤں (لڑکپن کے قاعدے پر میں نے ظاہر میں انکار کیا) جس کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں، آخر میں نکلا یہاں تک کہ مجھ کو لڑکے ملے جو بازار میں کھیل رہے تھے، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے آ کر میری گردن تھامی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، آپ ہنس رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انیس! (یہ تصغیر ہے انس رضی اللہ عنہ کی، پیار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) تو وہاں گیا جہاں میں نے حکم دیا تھا؟“ میں عرض کیا: جی ہاں جاتا ہوں یا رسول اللہ۔