وحدثناه احمد بن حنبل ، وزهير بن حرب جميعا، عن إسماعيل، واللفظ لاحمد، قالا: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، حدثنا عبد العزيز ، عن انس ، قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، اخذ ابو طلحة بيدي، فانطلق بي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " يا رسول الله، إن انسا غلام كيس، فليخدمك، قال: فخدمته في السفر والحضر، والله ما قال لي لشيء صنعته، لم صنعت هذا هكذا، ولا لشيء لم اصنعه، لم لم تصنع هذا هكذا ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! انس ہوشیار لڑکا ہے وہ آپ کی خدمت میں رہے گا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی سفر اور حضر میں۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کو جو میں نے کی یہ نہ فرمایا: تو نے کیوں کی اور جس کو نہ کیا اس کے لیے یہ نہیں فرمایا: تو نے کیوں نہیں کیا۔