كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

حدثنا يحيي بن يحيي التميمي ، وسعيد بن منصور ، وابو الربيع العتكي ، وابو كامل واللفظ ليحيي، قال يحيي: اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا حماد بن زيد ، عن ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، احسن الناس، وكان اجود الناس، وكان اشجع الناس، ولقد فزع اهل المدينة ذات ليلة، فانطلق ناس قبل الصوت، فتلقاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم راجعا، وقد سبقهم إلى الصوت وهو على فرس لابي طلحة، عري في عنقه السيف، وهو يقول: لم تراعوا، لم تراعوا، قال: وجدناه بحرا، او إنه لبحر، قال: وكان فرسا يبطا ".

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب سے زیادہ سخی تھے اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والوں کو خوف ہوا (کسی دشمن کے آنے کا) جدھر سے آواز آ رہی تھی ادھر لوگ چلے، راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹتے ہوئے ملے (آپ لوگوں سے پہلے تنہا خبر لینے کو تشریف لے گئے تھے) اور سب سے پہلےآپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے آواز کی طرف سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر جو ننگی پیٹھ تھا اور آپ کے گلے میں تلوار تھی اور فرماتے تھے کچھ ڈر نہیں کچھ ڈر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گھوڑا تو دریا ہے اور پہلے وہ گھوڑا آہستہ چلتا تھا (یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ وہ تیز ہو گیا)۔

صحيح مسلم # 6006
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp