وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم ، وابن ابي عمر المكي واللفظ لابن ابي شيبة، قال إسحاق: اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي ، عن ابي عمران الجوني ، عن عبد الله بن الصامت ، عن ابي ذر ، قال: قلت: يا رسول الله، ما آنية الحوض؟، قال: " والذي نفس محمد بيده لآنيته اكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها، الا في الليلة المظلمة المصحية آنية الجنة، من شرب منها لم يظما، آخر ما عليه يشخب فيه ميزابان من الجنة، من شرب منه لم يظما، عرضه مثل طوله ما بين عمان إلى ايلة، ماؤه اشد بياضا من اللبن، واحلى من العسل ".
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حوض کے برتن کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ اس حوض کے برتن آسمان کے تاروں سے زیادہ ہیں اور کس رات کے تارے، اس رات کے جو اندھیری بے بدلی کے ہو، وہ جنت کے برتن ہیں جو اس میں پیئے گا پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا، اخیر تک۔ یعنی ہمیشہ تک (کیونکہ وہاں اخیر نہیں ہے) اس حوض میں بہشت کے دو پرنالے بہتے ہیں جو اس میں سے پیئے پیاسا نہ ہو۔ اس کا طول اور عرض برابر ہے، جتنا فاصلہ ایلہ سے عمان تک ہے۔ (یہ دونوں شام کے شہر ہیں) اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ مٹیھا ہے۔“