حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن يزيد بن ابي حبيب ، عن ابي الخير ، عن عقبة بن عامر : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، خرج يوما، فصلى على اهل احد صلاته على الميت، ثم انصرف إلى المنبر، فقال: " إني فرط لكم، وانا شهيد عليكم، وإني والله لانظر إلى حوضي الآن، وإني قد اعطيت مفاتيح خزائن الارض، او مفاتيح الارض، وإني والله ما اخاف عليكم ان تشركوا بعدي، ولكن اخاف عليكم ان تتنافسوا فيها ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور احد کے شہیدوں پر نماز پڑھی جیسے جنازے کی نماز پڑھتے ہیں، پھر منبر کی طرف آئے اور فرمایا: ”میں تمہارا پیش خیمہ ہوں گا، اور گواہ ہوں گا اور قسم اللہ کی میں حوض کو اس وقت دیکھ رہا ہوں، اور مجھ کو زمین کے خزانوں کی کنجیاں ملیں یا زمین کی کنجیاں اور اللہ کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے بلکہ یہ ڈر ہے کہ تم دنیا کے لالچ میں آ کر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو۔“