كِتَاب الْفَضَائِلِ انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل

وحدثني يونس بن عبد الاعلى الصدفي ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني عمرو وهو ابن الحارث ، ان بكيرا حدثه، عن القاسم بن عباس الهاشمي ، عن عبد الله بن رافع مولى ام سلمة، عن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت: كنت اسمع الناس يذكرون الحوض، ولم اسمع ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما كان يوما من ذلك والجارية تمشطني، فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: ايها الناس، فقلت للجارية: استاخري عني، قالت: إنما دعا الرجال، ولم يدع النساء، فقلت: إني من الناس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إني لكم فرط على الحوض، فإياي لا ياتين احدكم فيذب عني كما يذب البعير الضال، فاقول: فيم هذا؟، فيقال: إنك لا تدري ما احدثوا بعدك، فاقول: سحقا ".

‏‏‏‏ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، میں لوگوں سےحوض کوثر کا ذکر سنتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا تھا، ایک دن لڑکی میری کنگھی کر رہی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے لوگو! یہ سن کر میں نے لڑکی سے کہا: سرک جا میرے پاس سے۔ وہ بولی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے نہ کہ عورتوں کو۔ میں نے کہا: لوگوں میں میں داخل ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا پیش خیمہ ہوں گا حوض پر تو تم ہوشیار رہو کوئی تم میں سے ایسا نہ ہو میرے پاس آئے پھر ہٹایا جائے جیسے بھٹکا ہوا اونٹ ہٹایا جاتا ہے، میں کہوں گا یہ کیوں ہٹائے جاتے ہیں؟ جواب ملے گا تمہیں معلوم نہیں انہوں نے نئی نئی باتیں نکالیں تمہارے بعد (طرح طرح کی بدعتیں اعتقاد اور عمل میں) میں کہوں گا: تو دور ہو۔

صحيح مسلم # 5974
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp