(حديث مرفوع) قال: وقالت اسماء بنت ابي بكر ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إني على الحوض حتى انظر من يرد علي منكم، وسيؤخذ اناس دوني، فاقول: يا رب مني ومن امتي، فيقال: اما شعرت ما عملوا بعدك، والله ما برحوا بعدك يرجعون على اعقابهم "، قال: فكان ابن ابي مليكة، يقول: اللهم إنا نعوذ بك ان نرجع على اعقابنا، او ان نفتن عن ديننا.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر رہوں گا، دیکھوں گا تم میں سے کون کون وہاں آتے ہیں، اور کچھ لوگ میرے پاس آنے سے روکے جائیں گے، میں کہوں گا: اے پروردگار! یہ لوگ میرے ہیں، میری امت کے ہیں، جواب ملے گا تم کو معلوم نہیں جو کام انہوں نے تمہارے بعد کئے، اللہ کی قسم تمہارے بعد ذرا نہ ٹھہرے، ایڑیوں پر لوٹ گئے۔“ (اسلام سے پھر گئے ان لوگوں میں خارجی بھی داخل ہیں، جو سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سے الگ ہو گئے، اور مسلمانوں کو کافر سمجھنے لگے اور وہ لوگ بھی داخل ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل نہ کیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کو ستایا اور شہید کیا۔ معاذ اللہ) ابن ابی ملیکہ جو اس حدیث کے روای ہیں کہتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا» یااللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں ایڑیوں پر لوٹ جانے سے یا دین میں فتنہ ہونے سے۔