حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو عامر الاشعري ، ومحمد بن العلاء ، واللفظ لابي عامر، قالوا: حدثنا ابو اسامة ، عن بريد ، عن ابي بردة ، عن ابي موسى ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " إن مثل ما بعثني الله به عز وجل من الهدى والعلم، كمثل غيث اصاب ارضا، فكانت منها طائفة طيبة قبلت الماء فانبتت الكلا والعشب الكثير، وكان منها اجادب امسكت الماء فنفع الله بها الناس، فشربوا منها، وسقوا، ورعوا، واصاب طائفة منها اخرى، إنما هي قيعان لا تمسك ماء، ولا تنبت كلا، فذلك مثل من فقه في دين الله ونفعه بما بعثني الله به، فعلم، وعلم، ومثل من لم يرفع بذلك راسا ولم يقبل هدى الله الذي ارسلت به ".
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مثال اس کی جو اللہ نےمجھ کو دیا ہدایت اور علم، ایسی ہے جیسے مینہ برسا زمین پر، اس میں کچھ حصہ ایسا تھا جس نے پانی کو چوس لیا، اور چارا اور بہت سا سبزہ جمایا، اور کچھ حصہ اس کا کڑا سخت تھا، اس نے اس پانی کو سمیٹ رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اس سے، لوگوں نے اس سے پیا اور پلایا اور چرایا (بخاری کی روایت میں «زَرَعُوْا» ہے یعنی کھیتی کی اس سے) اور کچھ حصہ اس کا چٹیل میدان ہے نہ تو پانی کو روکے، نہ گھاس اگائے، (جیسے چکنی چٹان کہ پانی لگا اور چل دیا)۔ تو یہ مثال ہے اس کی جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو فائدہ دیا اس چیز سے جو مجھ کو عطا فرمائی، اس نے آپ بھی جانا اور اوروں کو بھی سکھایا۔ اور جس نے اس طرف سر نہ اٹھایا (یعنی توجہ نہ کی) اور اللہ کی ہدایت کو قبول نہ کیا جس کو میں دے کر بھیجا گیا۔“