وحدثني سلمة بن شبيب ، حدثنا الحسن بن اعين ، حدثنا معقل ، عن ابي الزبير ، عن جابر : " ان ام مالك، كانت تهدي للنبي صلى الله عليه وسلم في عكة لها سمنا، فياتيها بنوها فيسالون الادم، وليس عندهم شيء، فتعمد إلى الذي كانت تهدي فيه للنبي صلى الله عليه وسلم، فتجد فيه سمنا فما زال يقيم لها ادم بيتها حتى عصرته، فاتتا لنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: عصرتيها؟، قالت: نعم، قال: لو تركتيها ما زال قائما ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدہ ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپی میں گھی بھیجا کرتی تھی تحفہ کے طور پر، پھر اس کے بیٹے آتے اور اس سے سالن مانگتے اور گھر میں کچھ نہ ہوتا تو ام مالک رضی اللہ عنہا اس کپی کے پاس جاتی اس میں گھی ہوتا۔ اسی طرح ہمیشہ اس کے گھر کا سالن قائم رہتا۔ ایک بار ام مالک رضی اللہ عنہا نے (حرص کر کے) اس کپی کو نچوڑ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس کو یوں ہی رہنے دیتی (اور ضرورت کے وقت لیتی جاتی) تو وہ ہمیشہ قائم رہتا۔“