حدثني محمد بن سهل التميمي ، حدثنا ابو اليمان ، اخبرنا شعيب ، عن عبد الله بن ابي حسين ، حدثنا نافع بن جبير ، عن ابن عباس ، قال: " قدم مسيلمة الكذاب على عهد النبي صلى الله عليه وسلم المدينة، فجعل يقول: إن جعل لي محمد الامر من بعده تبعته، فقدمها في بشر كثير من قومه، فاقبل إليه النبي صلى الله عليه وسلم، ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وفي يد النبي صلى الله عليه وسلم قطعة جريدة، حتى وقف على مسيلمة في اصحابه، قال: لو سالتني هذه القطعة ما اعطيتكها، ولن اتعدى امر الله فيك، ولئن ادبرت ليعقرنك الله، وإني لاراك الذي اريت فيك ما اريت، وهذا ثابت يجيبك عني، ثم انصرف عنه، فقال ابن عباس: فسالت عن قول النبي صلى الله عليه وسلم: إنك ارى الذي اريت فيك ما اريت، فاخبرني ابو هريرة ، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال: بينا انا نائم رايت في يدي سوارين من ذهب، فاهمني شانهما فاوحي إلي في المنام ان انفخهما، فنفختهما فطارا، فاولتهما كذابين يخرجان من بعدي، فكان احدهما العنسي صاحب صنعاء، والآخر مسيلمة صاحب اليمامة ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، مسیلمہ کذاب (جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا تھا اور اسی وجہ سے اس کا لقب کذاب ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مع اپنے تابعین کے مارا گیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ آیا اور کہنے لگا: اگر محمد اپنے بعد اپنی خلافت مجھ کو دیں تو میں ان کی پیروی کرتا ہوں۔ مسیلمہ اپنے ساتھ بہت سے اپنی قوم کے لوگ لے کر آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے لوگوں کے پاس ٹھہرے اور فرمایا: ”اے مسیلمہ! اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا مانگے تو تجھ کو نہ دوں گا اور میں اللہ کے حکم کے خلاف تیرے باب میں کرنے والا نہیں اور اگر تو میرا کہنا نہ مانے گا تو اللہ تجھ کو قتل کرے گا (یہ فرمانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح ہو گیا) اور یقناً میں تجھے وہی جانتا ہوں جو مجھ کو خواب میں دکھلایا گیا اور یہ ثابت تجھے میری طرف سے جواب دے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے لوگوں سے پوچھا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا: ”تو وہی ہے جو خواب میں مجھے دکھلایا گیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سو رہا تھا میں نے اپنے ہاتھ سے سونے کے دو کنگن دیکھے، وہ مجھ کو برے معلوم ہوئے، خواب میں ہی مجھ کو حکم ہوا ان کو پھونک مار، میں نے پھونکا، وہ دونوں اڑ گئے، میں نے ان کی تعبیر یہ کہی کہ وہ دونوں جھوٹے ہیں جو میرے بعد نکلیں گے ایک ان میں عنسی تھا صنعا والا اور دوسرا مسیلمہ تھا یمامہ والا۔“