حدثنا ابو عامر عبد الله بن براد الاشعري ، وابو كريب محمد بن العلاء ، وتقاربا في اللفظ، قالا: حدثنا ابو اسامة ، عن بريد ، عن ابي بردة جده، عن ابي موسى ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " رايت في المنام اني اهاجر من مكة إلى ارض بها نخل، فذهب وهلي إلى انها اليمامة، او هجر، فإذا هي المدينة يثرب، ورايت في رؤياي هذه اني هززت سيفا فانقطع صدره، فإذا هو ما اصيب من المؤمنين يوم احد، ثم هززته اخرى، فعاد احسن ما كان، فإذا هو ما جاء الله به من الفتح واجتماع المؤمنين، ورايت فيها ايضا بقرا والله خير، فإذا هم النفر من المؤمنين يوم احد، وإذا الخير ما جاء الله به من الخير بعد، وثواب الصدق الذي آتانا الله بعد يوم بدر ".
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب دیکھا کہ میں ہجرت کرتا ہوں مکہ سے اس زمین کی طرف جہاں کھجور کے درخت ہیں تو میرا گمان یمامہ اور ہجر کی طرف گیا لیکن وہ مدینہ نکلا جس کا نام یثرب بھی ہے اور میں نے اپنے اسی خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی تو اس کی تعبیر مسلمانوں کی شہادت نکلی احد کے دن، پھر میں نے تلوار کو دوسری بار ہلایا تو ویسی ہی ثابت ہو گئی۔ آگے سے اچھی، اس کی تعبیر یہ نکلی کہ اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب کی اور مسلمانوں کی جماعت قائم ہوئی (یعنی جنگ احد کے بعد خیبر اور مکہ فتح ہوا اور اسلام کے لشکر نے زور پکڑا) اور میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں (جو کاٹی جاتی تھیں) اور اللہ تعالیٰ بہتر ہے (یعنی یہ جملہ کسی کی زبان سے سننا اللہ خیر) وہ لوگ مسلمانوں کے جو احد کے دن کام آئے اور خیر سے مراد وہ تھی جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی اس کے بعد، اور ثواب سچائی کا جو اللہ نے ہم کو عنایت کیا بعد کو بدر کے دن۔“