حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي ، واحمد بن عبد الله بن الحكم ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن عبد ربه بن سعيد ، عن ابي سلمة ، قال: إن كنت لارى الرؤيا تمرضني، قال: فلقيت ابا قتادة ، فقال: وانا كنت لارى الرؤيا فتمرضني، حتى سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " الرؤيا الصالحة من الله، فإذا راى احدكم ما يحب فلا يحدث بها إلا من يحب، وإن راى ما يكره فليتفل عن يساره ثلاثا، وليتعوذ بالله من شر الشيطان وشرها، ولا يحدث بها احدا فإنها لن تضره ".
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں بعض خواب ایسا دیکھتا کہ بیمار ہو جاتا (اس ڈر سے) پھر میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے کہا: میرا بھی یہی حال تھا یہاں تک کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:“ ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے سو جب کوئی تم میں سے اچھا خواب دیکھے تو نہ بیان کرے مگر اپنے دوست سے اور جب برا خواب دیکھے تو بائیں طرف تین بار تھوکے اور شیطان کے شر سے پناہ مانگے اللہ کی اور کسی سے بیان نہ کرے تو اس کو نقصان نہ ہو گا۔“