حدثنا حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الوهاب يعني الثقفي ، قال: سمعت يحيي بن سعيد ، يقول: اخبرني نافع ، ان ابا لبابة بن عبد المنذر الانصاري، وكان مسكنه بقباء فانتقل إلى المدينة، فبينما عبد الله بن عمر جالسا معه يفتح خوخة له، إذا هم بحية من عوامر البيوت، فارادوا قتلها، فقال ابو لبابة : " إنه قد نهي عنهن يريد عوامر البيوت، وامر بقتل الابتر وذي الطفيتين، وقيل هما اللذان يلتمعان البصر، ويطرحان اولاد النساء ".
سیدنا نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا ابوالبابہ بن عبدالمنذر انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر قبا میں تھا، وہ مدینہ چلے آئے، ایک بار سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے سامنے بیٹھے تھے ایک روشن دان کھول رہے تھے، اچانک ایک سانپ نظر آیا۔ گھر کے بڑی عمر والے سانپوں میں سے۔ لوگوں نے اس کو مارنا چاہا۔ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے مارنے سے ممانعت ہے یعنی گھر کے سانپوں کے اور حکم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم بریدہ اور دو لکیروں والے کے مارنے کا اور کہا گیا ہے کہ یہ دونوں قسم کے سانپ بینائی کھو دیتے ہیں اور عورتوں کے حمل گرا دیتے ہیں۔