حدثني سلمة بن شبيب ، حدثنا الحسن بن اعين ، حدثنا معقل وهو ابن عبيد الله ، عن الزهري ، اخبرني يحيي بن عروة ، انه سمع عروة ، يقول: قالت عائشة : سال اناس رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكهان، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليسوا بشيء "، قالوا: يا رسول الله فإنهم يحدثون احيانا الشيء يكون حقا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تلك الكلمة من الجن يخطفها الجني، فيقرها في اذن وليه قر الدجاجة، فيخلطون فيها اكثر من مائة كذبة ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لغو ہیں کچھ اعتبار کے لائق نہیں۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! بعض باتیں ان کی سچ نکلتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچی بات وہی ہے جس کو جن اڑا لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتا ہے جیسے مرغ مرغی کو بلاتا ہے دانے کے لیے (اور دوسرا مرغ اس کی آواز کو سمجھ جاتا ہے اسی طرح جن کی بات اس کا دوست سمجھ لیتا ہے اور لوگ نہیں سمجھتے) پھر وہ اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ سے بھی زیادہ ملاتے ہیں۔“ (اور لوگوں سے کہتے ہیں)۔