حدثني ابو الطاهر ، وحرملة بن يحيي ، واللفظ لابي الطاهر، قالا: اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، قال ابن شهاب : فحدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن ، عن ابي هريرة ، حين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا عدوى ولا صفر ولا هامة "، فقال اعرابي: يا رسول الله فما بال الإبل تكون في الرمل كانها الظباء، فيجيء البعير الاجرب فيدخل فيها فيجربها كلها، قال: " فمن اعدى الاول؟ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری کا لگنا کوئی چیز نہیں اور صفر اور ہامہ کی کوئی اصل نہیں، تو ایک گنوار بولا: یا رسول اللہ! اونٹوں کا کیا حال ہے ریت میں ایسے صاف ہوتے ہیں جیسے کہ ہرن پھر ایک خارشی اونٹ آتا ہے اور ان میں جاتا ہے اور سب کو خارشی کر دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کیا۔“