قالت: ودخلت عليه بابن لي قد اعلقت عليه من العذرة، فقال: " علامه تدغرن اولادكن بهذا العلاق عليكن بهذا العود الهندي، فإن فيه سبعة اشفية منها ذات الجنب يسعط من العذرة ويلد من ذات الجنب ".
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں ایک بچے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی، جس کے تالو کو میں نے دبایا تھا (انگلی سے) غدرہ کی بیماری میں (غدرہ حلق کا ورم ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں تالو اور حلق دباتی ہو اپنی اولاد کا اس گھانٹی سے۔ تم لازم کر لو عود ہندی (کوٹ) کو۔ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے ایک پسلی کی بیماری کی (پانجر کی) اور اس کی ناس غدرہ کو مفید ہے اور ذات الجنب میں اس کا منہ میں لگانا فائدہ دیتا ہے۔“