حدثني عقبة بن مكرم العمي ، حدثنا ابو عاصم ، عن ابن جريج ، قال: واخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: " رخص النبي صلى الله عليه وسلم لآل حزم في رقية الحية، وقال لاسماء بنت عميس: " ما لي ارى اجسام بني اخي ضارعة تصيبهم الحاجة؟، قالت: لا، ولكن العين تسرع إليهم، قال: " ارقيهم "، قالت: فعرضت عليه، فقال: " ارقيهم ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، حزم کے لوگوں کو سانپ کے لیے منتر کرنے کی۔ اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا سبب ہے میں اپنے بھائی کے بچوں کو (یعنی جعفر بن ابوطالب کے لڑکوں کو) دبلا پاتا ہوں کیا وہ بھوکے رہتے ہیں۔“ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں ان کو نظر جلدی لگ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دم کر،“ میں نے ایک دم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کر۔“