وحدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا عبد الرزاق ، عن معمر ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة ، قالت: كان يدخل على ازواج النبي صلى الله عليه وسلم مخنث، فكانوا يعدونه من غير اولي الإربة، قال: فدخل النبي صلى الله عليه وسلم يوما وهو عند بعض نسائه وهو ينعت امراة قال: إذا اقبلت اقبلت باربع وإذا ادبرت ادبرت بثمان: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " الا ارى هذا يعرف ما هاهنا لا يدخلن عليكن "، قالت: فحجبوه.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور وہ اس کو ان لوگوں میں سے سمجھتیں جن کو عورتوں سے غرض نہیں ہوتی (اور قرآن میں ان کا آنا عورتوں کے سامنے جائز رکھا ہے) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بی بی کے پاس آئے وہ ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا جب سامنے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے اور جب پیٹھ موڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں نمودار ہوتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں یہ یہاں جو ہیں ان کو پہچانتا ہے (یعنی عورتوں کے حسن اور قبح کو پسند کرتا ہے) یہ تمہارے پاس نہ آئے۔“ پھر اس سے پردہ کرنے لگے۔