كِتَاب السَّلَامِ سلامتی اور صحت کا بیان

وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، وعبد بن حميد ، وتقاربا في اللفظ، قالا: اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن الزهري ، عن علي بن حسين ، عن صفية بنت حيي ، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم معتكفا فاتيته ازوره ليلا، فحدثته ثم قمت لانقلب، فقام معي ليقلبني، وكان مسكنها في دار اسامة بن زيد فمر رجلان من الانصار، فلما رايا النبي صلى الله عليه وسلم اسرعا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " على رسلكما إنها صفية بنت حيي "، فقالا: سبحان الله يا رسول الله، قال: " إن الشيطان يجري من الإنسان مجرى الدم، وإني خشيت ان يقذف في قلوبكما شرا او قال شيئا ".

‏‏‏‏ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی رات کو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں پھر میں کھڑی ہوئی لوٹ جانے کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی میرے ساتھ کھڑے ہوئے مجھے پہنچا دینے کو، میرا گھر اسامہ بن زید کے مکان میں تھا۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنبھل کر چلو، یہ صفیہ بنت حیی ہے۔ (ام المؤمنین) وہ دونوں بولے: سبحان اللہ! یا رسول اللہ! (یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی گمان کر سکتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے (اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو)۔

صحيح مسلم # 5679
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp