وحدثني ابو الطاهر ، اخبرنا ابن وهب ، قال: وسمعت الليث بن سعد ، يقول: " الحمو اخ الزوج وما اشبهه من اقارب الزوج ابن العم ونحوه ".
ابن وہب نے کہا: سنا میں نے لیث بن سعد رضی اللہ عنہ سے، کہتے تھے: حدیث میں جو آیا ہے کہ «حمو» موت ہے تو «حمو» سے مراد خاوند کے عزیز اور اقربا ہیں جیسے خاوند کا بھائی یا اس کے چچا کا بیٹا (خاوند کے جن عزیزوں سے عورت کا نکاح کرنا درست ہے تو وہ سب «حمو» میں داخل ہیں ان سے پردہ کرنا چاہیے سوائے خاوند کے باپ یا دادا یا اس کے بیٹے کے کہ وہ محرم ہیں ان سے پردہ ضروری نہیں ہے)۔