حدثني هارون بن عبد الله ، وحجاج بن الشاعر ، قالا: حدثنا حجاج بن محمد ، قال: قال ابن جريج : اخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: سلم ناس من يهود على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: السام عليك يا ابا القاسم، فقال: " وعليكم "، فقالت عائشة: وغضبت الم تسمع ما قالوا؟ قال: " بلى قد سمعت فرددت عليهم، وإنا نجاب عليهم ولا يجابون علينا ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہود کے چند لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو کہا «السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَيْكُمْ» “، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غصے ہوئیں اور انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا ان کا کہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سنا اور اس کا جواب بھی دیا اور ہم جو دعا کرتے ہیں ان پر وہ قبول ہوتی ہے اور ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“ (ایسا ہی ہوا کہ الٹی موت یہود پر پڑی مرے اور مارے گئے)۔