حدثناه إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا يعلى بن عبيد ، حدثنا الاعمش بهذا الإسناد غير انه، قال: ففطنت بهم عائشة، فسبتهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مه يا عائشة فإن الله لا يحب الفحش والتفحش "، وزاد فانزل الله عز وجل: وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله سورة المجادلة آية 8 إلى آخر الآية.
اعمش سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس میں یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی بات کو سمجھ گئیں انہوں نے برا بھلا کہا۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کر عائشہ! کیونکہ اللہ تعالیٰ بدزبان کو پسند نہیں کرتا۔ ”تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «وَإِذَا جَاؤُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» (۵۸- المجادلة:۸) یعنی ”جب وہ آتے ہیں تیرے پاس تو اس طور سے سلام کرتے ہیں کہ ویسا اللہ نے نہیں سلام کیا تجھ کو۔“