حدثنا ابو كريب ، حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن مسلم ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت: اتى النبي صلى الله عليه وسلم اناس من اليهود، فقالوا: السام عليك يا ابا القاسم، قال: " وعليكم "، قالت عائشة: قلت بل عليكم السام والذام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا عائشة: " لا تكوني فاحشة "، فقالت: ما سمعت ما قالوا؟ فقال: " اوليس قد رددت عليهم الذي قالوا قلت: وعليكم ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند یہودی آئے۔ انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَيْكُمْ» “، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: «بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ» یعنی تمہارے ہی اوپر موت ہو اور برائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! زبان بری نہ کرو۔“ انہوں نے کہا: آپ نے نہیں سنا یہود نے جو کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے سنا جو انہوں نے کہا اور کیا میں نے جواب نہیں دیا جو انہوں نے کہا وہ انہی پر پھیر دیا۔“