كِتَاب السَّلَامِ سلامتی اور صحت کا بیان

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عفان ، حدثنا عبد الواحد بن زياد ، حدثنا عثمان بن حكيم ، عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة ، عن ابيه ، قال: قال ابو طلحة : كنا قعودا بالافنية نتحدث، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام علينا، فقال: " ما لكم ولمجالس الصعدات، اجتنبوا مجالس الصعدات؟ " فقلنا: إنما قعدنا لغير ما باس قعدنا نتذاكر ونتحدث، قال: " إما لا فادوا حقها غض البصر ورد السلام وحسن الكلام ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم بیٹھے تھے مکان کے سامنے جو زمین ہوتی ہے اس میں باتیں کرتے ہوئے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کو راہ میں بیٹھنے سے کیا مطلب۔ ہم نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم کسی برے کام کے لیے نہیں بیٹھے بلکہ ہم بیٹھے تھے چپ ادھر ادھر کے ذکر کرتے ہوئے اور باتیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اگر نہیں مانتے تو اس کا حق ادا کرو وہ کیا ہے؟ آنکھ نیچے رکھنا (اور اجنبی عورتوں کی طرف نظر بد نہ کرنا) اور سلام کا جواب دینا اور اچھی باتیں کرنا۔ (جن سے لوگ خوش ہوں اور ان سے فائدہ پہنچے)۔

صحيح مسلم # 5647
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp