حدثنا يحيي بن يحيي ، ومحمد بن رمح ، قالا: اخبرنا الليث ، واللفظ ليحيي. ح وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن ابن شهاب ، ان سهل بن سعد الساعدي اخبره، ان رجلا اطلع في جحر في باب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ومع رسول الله صلى الله عليه وسلم مدرى يحك به راسه، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لو اعلم انك تنتظرني لطعنت به في عينك "، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنما جعل الإذن من اجل البصر ".
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کی روزن سے جھانکا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں پشت خار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا سر کھجا رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: ”اگر میں جانتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھ کو کونچتا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”اذن اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ آنکھ بچے۔“ (پرائے گھر میں جھانکنے سے جو حرام ہے)۔