كِتَاب الْآدَابِ معاشرتی آداب کا بیان

حدثنا محمد بن المثنى ، ومحمد بن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، سمعت قتادة ، عن سالم ، عن جابر بن عبد الله ، ان رجلا من الانصار ولد له غلام، فاراد ان يسميه محمدا فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله، فقال: " احسنت الانصار سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک انصاری کا لڑکا پیدا ہوا، اس نے چاہا اس کا نام محمد رکھنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا انصار نے، نام رکھو میرے نام پر لیکن میری کنیت مت رکھو۔

صحيح مسلم # 5593
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp