حدثنا هناد بن السري ، حدثنا عبثر ، عن حصين ، عن سالم بن ابي الجعد ، عن جابر بن عبد الله ، قال: ولد لرجل منا غلام فسماه محمدا، فقلنا: لا نكنك برسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تستامره، قال: فاتاه، فقال: إنه ولد لي غلام فسميته برسول الله وإن قومي ابوا ان يكنوني به حتى تستاذن النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي، فإنما بعثت قاسما اقسم بينكم ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ ہم لوگوں نے کہا: ہم تیری کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے نہیں رکھنے کے (یعنی تجھے ابومحمد نہیں کہنے کے) جب تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے۔ وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا ایک لڑکا پیدا ہوا ہے تو میں نے اس کا نام اللہ کے رسول کے نام پر رکھا، میری قوم کے لوگ انکار کرتے ہیں اس نام کی کنیت مجھے دینے سے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو کیونکہ میں قاسم ہو کر بھیجا گیا ہوں میں تقسیم کرتا ہوں تم میں اور اپنے لیے نہیں جوڑتا۔“