حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وإسحاق بن إبراهيم، قال عثمان : حدثنا، وقال إسحاق : اخبرنا جرير ، عن منصور ، عن سالم بن ابي الجعد ، عن جابر بن عبد الله ، قال: ولد لرجل منا غلام، فسماه محمدا، فقال له قومه: لا ندعك تسمي باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانطلق بابنه حامله على ظهره، فاتى به النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، ولد لي غلام فسميته محمدا، فقال لي قومي: لا ندعك تسمي باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي، فإنما انا قاسم اقسم بينكم ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ہم میں سے ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ اس کی قوم نے کہا اس سے: ہم تجھے یہ نام نہیں رکھنے دیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رکھتا ہے پھر وہ شخص اپنے بچے کو اپنی پیٹھ پر لاد کر لایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا لڑکا پیدا ہوا میں نے اس کا نام محمد رکھا میری قوم کے لوگ کہتے ہیں ہم تجھے نہیں چھوڑنے کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رکھتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام رکھو لیکن میری کنیت (یعنی ابوالقاسم) نہ رکھو کیونکہ قاسم میں ہوں تقسیم کرتا ہوں تم میں جو کچھ ملتا ہے۔“ (غنیمت کا مال یا زکوٰۃ اس لیے اور کسی شخص کو ابوالقاسم نام رکھنا زیبا نہیں)۔