حدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير ، عن سهيل ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صنفان من اهل النار، لم ارهما قوم معهم سياط كاذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رءوسهن كاسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو قسمیں ہیں دوزخیوں کی جن کو میں نے نہیں دیکھا: ایک تو وہ لوگ جن کے پاس کوڑے ہیں بیلوں کی دموں کی طرح کے لوگوں کو اس سے مارتے ہیں۔ دوسرے وہ عورتیں ہیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق اعضا کھلے ہیں ایسے باریک ہوتے ہیں جن میں سے بدن نظر آتا ہے تو گویا ننگی ہیں) سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی، ان کے سر بختی (ایک قسم ہے اونٹ کی) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آتی ہے۔